راہِ نجات
جب سے انسان اس دنیا میں آیا کسی نہ کسي طرح کے خوف نے انسان کو ایک ایسے سرکل میں محفوظ رکھا جس سے انسان کی آزادی کچھ حد تک تو سلب رہی اور کچھ حد تک انسان آزاد رہا۔ آزادی کے اس سلب ہونے سے ہی انسان کا ارتقاء جاری رہا اور انسان ترقی کی منازل طے کرتا ہوا آج اس مقام تک پہنچا کہ انسان نے ستاروں پر کمند ڈال دی۔
خدا انسان کی پیدایش سے ہی کسی نہ کسی طرح راہنمائی کرتا آیا ہے۔ نظریہ ِ ارتقاء کے مطابق جب انسان جنگل میں عام جنگلی جانوروں کے ساتھ رہتے تھے تو انسان کو اپنے جیسے ہی دوسرے جنگلی جانوروں کا خوف رہتا تھا اسی لیے شیر کی دھاڑ سن کر انسان غاروں میں چھُپ کر اپنی جان بچاتے ہونگے۔ رفتہ رفتہ جب آگ کی دریافت ہوئی تو انسان نے آگ جلا کر اپنا تحفظ کرنا سیکھا۔ اور یوں آ گ انسان کی محافظ بنی تو انسان نے آ گ کو تعظیم دینا شروع کردیا۔ تعظیم رفتہ رفتہ محبت اور پھر محبت عبادت میں تبدیل ہوتی گئی۔
پھرکبھی طوفانِ باد و باراں نے تباہی مچایی ہوگی اور کبھی خشک سالی نے۔ جس کسی نے خدا کے دیے ہوئے شعور سے ان تباہ کن موسموں سے بچنے کی ترکیب بتائی ہوگی ان کی موت کے بعد ان کی مورتیاں بنا لی گئیں اور یوں بت پرستی کی شروعات ہوئی۔
انسانی ارتقاء میں ایک بار پھر انقلاب برپا ہوا اور انسان اس بات پر سوچنے پر مجبور ہوا کہ کوئی تو ہے جو اس نظام قدرت کو چلا رہا ہے۔ اور انسان نے خدا کو محسوس کر لیا اور آج کائینات کی ہر چیز نظام قدرت کی پیروی کرتی نظر آتی ہے۔
اگر آپ ایک چھوٹے سے ذرے ایٹم کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ بہت سے چھوٹے چھوٹے ذرات الیکٹران اپنے مرکزی ذرات نیوٹران اور پرٹون کے گرد گردِش ميں مصروف رہتے ہیں۔ اور پھر چاند اپنی زمین کے گرد اور زمین اپنے سورج کے گرد اور ہمارا پورا نظامِ شمسی کسی اور نظام کے گرد گردش میں مصروف ہے۔ اگر آپ کائینات کے چھوٹے ذرے ايٹم ميں موجود اليکٹرونوں کي گردش ميں کسي طرح خلل ڈال ديں يا ان کے مدار کو توڑ کر انکي گردش کے نظام کو درہم برہم کرديں تو اس سے تباہ کن دھماکہ برپا ہوجاتا ہے جسے ايٹمي دھماکے کا نام ديا جاتا ہے- غور کريں اگرمحض ايک چھوٹے سے ذرے ايٹم کے نظامِ گردش ميں خلل ڈال ديا جائے تو اس سے کتني تباہي ہوتي-
اور اگر خلا میں ستارے یا سیارے اپنے مدار سے ہٹ جائیں تو کتی تباہی برپا ہوتی ہے اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ کیا ایک الیکٹرون پروٹون سے، یا چاند زمین سے یا زمین سورج سے یا پھر ہماری نظامِ شمسی دوسرے کسی نظامِ سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم بھی تمہارے طرح کے ذرے یا کُرے ہیں اور ہم تماری پیروی کیوں کریں؟ اگر يہ کرُے ايک دوسرے سے کہنے لگيں کہ تم تو ہمارے جیسے ہی ذرے ہو پھر ہم تمہاري پيروي کيوں کريں؟ بلکہ ہم تو خدا کی پیروی کریں گے؟ اگر سب کرُے ايک دوسرے سے ایسا کہنے لگیں تو کیا ردِ عمل ہوگا ؟ آپ کو معلوم ہے اگر سب نے ایسا ہی کيا تو پھر قیامت برپا ہوجائے گی۔ اسی لیے آپ ان سے کہو گے کہ بھائی ٹھیک ہے یہ ذرے تمہارے جیسے ہیں جن کی پیروی تم کر رہے ہو لیکن ان کی پیروی ہی خدا کی پیروی ہے- اگر ان کے مدارر کو چھوڑو گے تو قانونِ قدرت کی خلاف ورزی ہو گی اور تباہی برپا ہو جائے گی۔ آپ ان کو ہر گز یہ مشورہ نہیں دوگے کہ؛۔
“ہاں ٹھیک ہے چھوڑو ان ذرات کو يہ تو تمہارے جيسے ہي ہيں اور نکل جاءو خدا کی تلاش میں اور کہو خدا کو کہ اے خدا ہم تو تیرے ہی گرد گردش کریں گے نہ کہ اپنے جیسے ذروں کے“
بس یہی حال ہم انسانوں کاہے۔ کوئی کہتا ہے کہ ہم تو انسان ہیں پھر اپنے جیسے انسان کی پیروی کیوں کریں؟ یا پھر کوئی کہتا ہے کہ فلاں کی پیروی کرو تو خدا کی پیروی ہے۔ اس صورتحال میں ہمارا کیا طرزعمل ہو سکتا ہے؟ ایسی صورت میں ہمیں اپنے ذہن کا بھرپور استعمال کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ ہم شیطانی قوتوں سے نجات پاکر صیح معنوں میں خدا کی پیروی ایسے کر سکیں جیسے کہ ہم پر لازم ہے۔
لہٰذا اس تمام نظامِ قدرت سے ظاہر ہوتا ہی کہ خدا ہمارے درميان ميں کسي ہمارے جيسے ہي انسان کو ایسا بنا دیتا ہے کہ ہم اس کی پیروی کرتے ہوئے خدا کی پیروی کرتے ہیں اور يہي قانونِ قدرت ہے يہي خدا کي رضا ہےـ
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خدا نے ہم میں سے کن لوگوں کو وہ مقام بخشا جن کی پیروی سے ہم اپنی زندگی اور دنیا کی زندگی میں امن، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دے سکیں۔ ہمارے درمیان وہ کون سی شخصیات ہیں جن کی پیروی خدا کی پیروی ہو، جن کی تعلیمات خدا کی تعلیمات ہوں۔ اگر ہم ان شخصیات کو پا لیتے ہیں تو ہمیں صرف ان کی تعلیمات اور ان کا اپنا کردار ہی بتائے گا کہ ہمیں ان کی پیروی کرنا چاہیے یا نہیں۔ اسطرح اگر ہم خدا کے بتائے ہوئے راستے کا انتخاب کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہی راستہ انسان کی نِجات کا راستہ ہوگا اور وہی راستہ راہِ نجات ہے۔ لیکن ان راستوں کا انتخاب ہے تھوڑا مشکل جس طرح اچھی فصل میں کچھ خراب کارم کانٹے بھی اُگ جاتے ہیں اسی طرح اچھے راستہ کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے راستے بھی ہوتے ہیں جو انسان کی تباہی اور بربادی کا باعث بنتے ہیں۔ کیونکہ خیر اور شر بھی اسی کایئنات کا حصہ ہیں جیسے ایٹم کے ذرات کا اپنے مدار میں ہونا خیر اور مدار سے باہر ہونا شر ہے اسی طرح انسانی مدار بھی ہیں اور ان مدار کی مرکزی شخصیات بھی ہیں اور ان سخصیات سے ہٹ کر شر والی شخصیات بھی ہیں۔ اب ہمیں اپنے درمیان سے ان شخصیات کو دیکھنا ہوگا جو تمام انسانوں کو پیار محبت اور امن کے ساتھ قانونِ قدرت کی پیروی پر کوشاں رکھتی ہوں۔ شخصی کردار اور الہامی علوم یہی دونشانات ہیں جن سے ہم راہِ نجات پا تے ہیں۔
(Bishop Sebastian Francis Shah OFM کی تحریر ّہمارا ایمان یہ ہےّ سے ہے)